کونمنگ (شِنہوا) چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر کونمنگ میں جاری 10ویں چین-جنوبی ایشیا نمائش(سی ایس این اے ایف) میں پاکستانی دستکاریوں اور مخصوص مصنوعات نے زبردست مقبولیت حاصل کر لی ہے۔
اس 6 روزہ ایونٹ میں 68 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ جنوبی ایشیائی ممالک کی 560 سے زائد کمپنیاں اس نمائش کا حصہ ہیں۔
جنوبی ایشیا پویلین کے ایک نمایاں حصے پر قائم پاکستانی نمائشی علاقےمیں سیاحوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ یہ رش چین اور پاکستان کے درمیان فروغ پاتے ہوئے اقتصادی و ثقافتی تبادلوں کے دوران مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مضبوط مانگ اور تعاون کے روشن امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستانی بوتھس پر قیمتی پتھرکے زیورات، ہاتھ کے بُنے ہوئے قالین، پیتل کے شاہکار اور چمڑے کی مصنوعات سمیت دیگر اشیاء کی بھرپور ورائٹی موجود ہے، جو اس نمائش میں توجہ کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے۔ بہت سے چینی سیاح خاص طور پر جنوب ایشیائی مصنوعات کو دیکھنے اور خریدنے آ رہے ہیں، جو اپنے اچھوتے انداز اور شاندار کاریگری کا حسین امتزاج ہیں۔
کونمنگ کی مقامی رہائشی ژانگ پھنگ نے 6 ماہ کے انتظار کے بعد حال ہی میں پاکستان کے بوتھ پر لکڑی کے ایک میز کا آرڈر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستانی لکڑی کا فرنیچر چین کی نفیس جمالیات اور پاکستان کے منفرد انداز کو یکجا کرتا ہے، جو خوبصورتی کا ایک الگ ہی احساس دیتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایسی منفرد مصنوعات چینی صارفین کے ذوق پر پورا اترتی ہیں۔
بہت سے پاکستانی نمائش کنندگان کے لئے یہ سالانہ نمائش چین کی وسیع مارکیٹ تک رسائی اور دوطرفہ دوستی کو گہرا کرنے کے لئے ایک قابل اعتماد پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔ نصیر احمد ایک تجربہ کار پاکستانی نمائش کنندہ ہیں جو اس نمائش کے ہر ایڈیشن میں شرکت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کونمنگ کے ساتھ اپنے کاروباری تعلق کا آغاز 2009 میں کیا تھا۔ پیتل پر بنے ان کے دیدہ زیب فن پارے، جن میں جنوبی ایشیا کے روایتی مناظر کو دکھایا گیا ہے، اپنی بہترین کاریگری اور خوبصورت ڈیزائن کی وجہ سے چینی خریداروں میں بے حد مقبول ہیں۔
نصیر احمد نے کہا کہ "چین اور پاکستان کی دوستی سمندر سے گہری اور پہاڑوں سے بلند ہے۔ یہ مضبوط رشتہ مجھے چین میں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کا پختہ اعتماد دیتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی اقتصادی ترقی کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن وہ چینی مارکیٹ میں ترقی کے نئے مواقع دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے چین بھر میں مزید نمائشوں میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ پاکستانی دستکاریوں کو چینی صارفین تک پہنچایا جا سکے۔
ایک اور پاکستانی نمائش کنندہ کاشف بشیر اس نمائش میں ہاتھ سے بنے قالین، سکارف اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات لے کر آئے ہیں۔ کئی برسوں سے اس نمائش میں حصہ لینے والے کاشف نے اس پلیٹ فارم کی عملی افادیت کو بہت سراہا۔ کاشف بشیر نے کہا کہ "یہ نمائش ہر سال مستحکم کاروباری آمدنی کا ذریعہ بنتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یون نان اور پورے چین میں تجارت دوست پالیسیوں نے چینی مارکیٹ میں پاکستانی سامان کی رسائی کو بہت آسان بنا دیا ہے، جس سے ان کے سرحد پار کاروبار کو پائیدار ترقی مل رہی ہے۔
یہ سال چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کا سال ہے۔ پاکستانی قیمتی پتھروں کی دستکاریاں فروخت کرنے والے ایک بوتھ پر نمائش کنندہ رشید پنسال نے دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک گلدان میں چین اور پاکستان کے قومی پرچم سجائے ہوئے تھے۔پنسال نے کہا کہ "میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دونوں ممالک کی یہ دوستی اگلی نسلوں تک منتقل ہوتی رہے گی اور ہماری عملی شراکت داری مسلسل مضبوط ہوتی جائے گی۔”
گہری روایتی دوستی اور ایک دوسرے کی صنعتی صلاحیتوں کی بدولت چین اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت اور عوامی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کھلے پن اور جنوبی ایشیا کے ساتھ تعاون کے ایک اہم مرکز کے طور پر یون نان پاکستانی تاجروں کو چینی منڈی تک رسائی کے لئے ایک مضبوط پل فراہم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کی منفرد مصنوعات کو وسیع تر شناخت مل رہی ہے اور باہمی فائدے پر مبنی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
اب تک 9 بار کامیابی سے منعقد ہونے والی اس چین-جنوبی ایشیا نمائش کے ذریعے 3 ہزار سے زائد منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں اور 100 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی غیر ملکی تجارت ممکن ہوئی ہے۔ چین اب پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً.
Related Posts
اہم روابط
