امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر امریکا کا تازہ ترین حملہ ’’جائز‘‘ تھا،ایران نےامریکی حملوں کا جواب دیا تو اس پر مزید شدت کے ساتھ حملے کریں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا حملہ ابھی باقی ہے اور جب وہ حملہ ہوگا تو ایران کا بہت کم حصہ ہی باقی بچے گا،حملے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمزمیں بارودی سرنگیں بچھانے پرکیے گئے،آبنائے ہرمزمیں اس وقت کوئی بارودی سرنگ موجود نہیں، تمام سرنگیں ہٹادیں یا ناکارہ بنا دی گئی ہیں،اردن میں امریکی اڈے پر داغے گئے تمام ایرانی میزائل روک لیے گئے تھے۔
امریکی صدر نےکہا ہےکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش نہیں کررہا،ایران کےساتھ کسی بے معنی معاہدےمیں دلچسپی نہیں،آبنائے ہرمز پرتقریباًمکمل کنٹرول حاصل ہے،ایرانی معیشت مکمل طور پر تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے،ایران ناگزیر انجام کی جانب بڑھ رہا ہے،ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اورمقابلہ کریں گے؟۔
دوسری جانب امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہےکہ ایران معاہدے کیلئے تیار نہیں تھا اس لیے مفاہمتی یادداشت ناکام ہوئی،دیکھنا ہوگاکہ ایران کب معاہدہ کرنے کے لیےتیار ہوتا ہے،ایران گھبراہٹ کا شکار ہے،اُس کے پاس صرف تین راستے ہیں،پہلاراستہ یہ کہ پاسدارانِ انقلاب آپس میں ایک دوسرے کےخلاف ہوجائیں،عوام پاسدارانِ انقلاب کےخلاف ہوجائیں یا تہران مذاکرات کی میز پرآئے،ایران کو بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا۔
