گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین نے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کے معاشی استحکام کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں حصہ دیا جائے۔
گلگت بلتستان کے آئینی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں خطے کی کو عبوری آئینی صوبے کا درجہ دینے اور معاشی استحکام کے لیے منظور شدہ سفارشات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام 78 سال سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کی سیاسی جماعتیں قومی دھارے کے ایجنڈے پر متفق ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کو کم از کم عبوری آئینی صوبے کا درجہ دیا جائے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت مناسب مالی حصہ فراہم کیا جائے اور خطے میں سیاحت و معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے گلگت میں بین الاقوامی ایئرپورٹ قائم کریں۔
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور حافظ حفیظ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ جی بی کے مؤقف کی بھرپور تائید کی۔ احسن اقبال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان کے مسائل کا حل وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ خصوصی کمیٹی خطے کے آئینی، معاشی اور ترقیاتی چیلنجز کا جامع جائزہ لے کر اپنی حتمی سفارشات اور تجاویز وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ رواں سال جولائی میں گلگت بلتستان اسمبلی نے خطے کو عبوری صوبہ بنانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی تھی۔
قرارداد کے متن کے مطابق عبوری صوبہ بناکر گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دی جائے، عبوری صوبہ بناکر مالیاتی اداروں میں بھی نمائندگی دی جائے۔
قرارداد کے مطابق آئینی ترمیم سے گلگت بلتستان کو آئین پاکستان کا حصہ بنایا جائے، مسلئہ کشمیر کو متاثر کیے بغیر گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنایا جائے۔
قرارداد میں وفاقی حکومت کو آئینی، قانونی اور انتظامی اقدامات شروع کرنے کی سفارش کرتے ہوئے گلگت بلتستان کیلیے این ایف سی ایوارڈ کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ قرارداد میں گلگت بلتستان کے عوام کی قومی وسائل میں منصفانہ حصہ داری کی حمایت بھی کی گئی ہے۔
