امریکی نشریاتی ادارہ (سی این این) نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم اور فوجی اہلکاروں خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات میں تعینات کردیے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے خفیہ طور پر فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم اور درجنوں فوجیوں کو متحدہ عرب امارات میں تعینات کیا اور یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان غیر معمولی فوجی تعاون کی ایک نئی سطح کا عکاس ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی ذریعے نے ایکسیوس کی اس رپورٹ کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے بعد اسرائیلی فوج کو ہدایت دی کہ وہ متحدہ عرب امارات میں آئرن ڈوم بیٹری اور انٹرسیپٹرعملہ بھیج دیں۔
مزید بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق ایران نے خطے میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات کو زیادہ نشانہ بنایا یہاں تک کہ اسرائیل سے بھی زیادہ امارات کو نشانہ بنایا جہاں 550 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور 2,200 سے زائد ڈرون حملے کیے گئے۔
متحدہ عرب امارات کا دعویٰ ہے کہ ایران کے 90 فیصد سے زیادہ حملوں کو ناکام بنایا گیا تاہم کچھ میزائل فوجی اور شہری اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔
واضح رہے کہ آئرن ڈوم اسرائیلی ساختہ موبائل، شارٹ رینج کا فضائی دفاعی نظام ہے جو راکٹ، مارٹر، توپ خانے کے گولے اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرتا ہے، اسرائیل اس سے قبل اس نظام کو فروخت کرنے کے متعدد معاہدے کرچکا ہے، تاہم یہ غالباً پہلا موقع ہے کہ اسے کسی دوسرے ملک میں عملی طور پر تعینات کیا گیا ہو۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایکسیوس کے مطابق اس نظام نے جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں کی درجنوں کوششوں کو ناکام بنایا۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعاون اور تعلقات کا معاہدہ 2020 میں ہوا تھا اور اس سے ابراہمی معاہدے کا نام دیا گیا تھا، جس میں دیگر چند ممالک بھی شامل تھے۔
اسرائیلی ذریعے کے مطابق دونوں ممالک نے قریبی فوجی اور انٹیلیجنس شراکت داری قائم کرلی ہے جو ایران کے ساتھ جنگ کے دوران نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔
