امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیشرفت نہ ہوسکی،دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف پرقائم رہنے کے باعث دوبارہ فوجی کارروائی کا خدشہ بڑھ گیا۔
ایگزیوس کی رپورٹ کےمطابق ایران بحری ناکہ بندی ختم کرنےجوہری معاملات پر رعایتوں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرواپس آنےکا مطالبہ کر رہا ہےجو امریکاکیلئے ناقابل قبول ہے،امریکی صدر نےکہا ہے کہ معلوم نہیں ایران ابھی ہتھیارڈالےگا یا نہیں لیکن انکی حالت بہت خراب ہے۔
دوسری جانب ایرانی قومی سلامتی کےسیکرٹری محسن رضائی نے کہا کہ ٹرمپ ایسے دلدل میں پھنس چکے ہیں، جہاں وہ مذاکرات کر سکتے ہیں نہ جنگ، اس لیے ناکہ بندی کا سہارا لے رہے ہیں۔
