قریب ترین اتحادی کے ہاتھوں اسرائیل کی ایک بار پھر بدترین سبکی ہوئی ہے۔ امریکا نے ایران معاہدے کا مسودہ دیکھنے کی اسرائیلی درخواست مسترد کردی۔
امریکی میڈیا کے مطابق صیہونی ریاست نے امریکا سے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا متن دیکھنے کی درخواست کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو معاہدے پر بریفنگ دی گئی لیکن معاہدے کا مسودہ نہیں دکھایا گیا۔
خیال رہے کہ جمعے کو امریکا اور ایران کا تاریخی معاہدہ ہونے جارہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں باضابطہ دستخط کی تقریب سجے گی جس کا میزبان پاکستان ہوگا۔
بلوم برگ مفاہتمی یادداشت کی تفصیلات بھی سامنے لے آیا جس کے مطابق امریکا ایرانی تیل کی تجارت اور اس سے جڑی بینکاری خدمات پر پابندیاں نہیں لگائے گا۔ دونوں ممالک نے حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 60 دن میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس دوران ایران اپنا موجودہ جوہری پروگرام برقرار رکھے گا۔ واشنگٹن کی جانب سے نئی پابندیاں نہیں لگیں گی ۔ فوج کی موجودگی میں بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
حتمی معاہدے میں افزودہ جوہری مواد سے متعلق بات ہوگی۔ تہران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ امریکا نے طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کرلیا ۔ حتمی معاہدہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی ایک لازمی قرارداد کے ذریعے منظور کیا جائے گا۔
