جمعے کو امریکا اور ایران کا تاریخی معاہدہ ہونے جارہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں باضابطہ دستخط کی تقریب سجے گی جس کا میزبان پاکستان ہوگا۔
بلوم برگ مفاہتمی یادداشت کی تفصیلات بھی سامنے لے آیا جس کے مطابق امریکا ایرانی تیل کی تجارت اور اس سے جڑی بینکاری خدمات پر پابندیاں نہیں لگائے گا۔ دونوں ممالک نے حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 60 دن میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس دوران ایران اپنا موجودہ جوہری پروگرام برقرار رکھے گا ۔ واشنگٹن کی جانب سے نئی پابندیاں نہیں لگیں گی ۔ فوج کی موجودگی میں بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا ۔
حتمی معاہدے میں افزودہ جوہری مواد سے متعلق بات ہوگی ۔ تہران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ امریکا نے طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کرلیا ۔ حتمی معاہدہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی ایک لازمی قرارداد کے ذریعے منظور کیا جائے گا۔
اِس بڑی پیش رفت کے ساتھ ایرانی تیل کی سپلائی بھی شروع ہوگئی ۔ دو ماہ کی بحری ناکہ بندی کے بعد ایرانی خام تیل کی پہلی کھیپ روانہ ہوئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق 5 ایرانی تیل بردار اور کارگو جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے بین الاقوامی پانیوں سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوچکے ہیں۔
ایران امریکا معاہدے کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بھی اہم پیش رفت دیکھی جارہی ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں مزید 5 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد امریکی کروڈ آئل 76 اور برطانوی تیل 79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کررہا ہے۔
