ذرائع کے مطابق پاکستان ہیڈ لائنز ڈپلومیسی پر یقین نہیں رکھتا بلکہ اس عمل کی کامیابی چاہتا ہے، اس معاملہ پر تمام رابطہ کاری وزیر اعظم اور فارن آفس کے ذریعہ ہو رہی ہے، 19 تاریخ کو جینوا میں تقریب ہو گی۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس معاملہ میں فیلڈ مارشل کی دلچسپی خطہ میں امن کے لیے ہے، اگر پاکستان معاملہ میں نہ پڑتا تو مسلم دنیا میں یہ جنگ کون رکوا سکتا تھا، فیلڈ مارشل نے جو بیڑا اٹھایا ہے اس کا ادراک دنیا کو ہو رہا ہے۔
اِسی طرح اگر پاکستان معاملہ میں نہ پڑتا تو مسلم دنیا میں یہ جنگ کون رکوا سکتا تھا ، فیلڈ مارشل نے جو بیڑا اٹھایا ہے اس کا ادراک دنیا کو ہو رہا ہے، یہ جنگ مسلم دنیا پر مسلط ہو چکی تھی ،فیلڈ مارشل نے حکمت عملی سے معاملہ حل کرایا۔
ذرائع نے کہا کہ خطہ میں امن کے لیے قطر،سعودی عرب اور مصر کی لیڈر شپ کو بھی کریڈٹ جاتا ہے، پاکستان اور یو اے ای کے درمیان کوئی نہیں آسکتا ، ہمارے یو اے ای سے برادرانہ تعلقات ہیں۔
دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک پیچیدہ ایشو تھا جسے ہم ڈیل کررہے ہیں، آزاد کشمیر کی صورتحال کے پیچھے ایک بھیانک ایجنڈا ہے ، تحریک چلانے والوں کے مطالبات مان کر بہت زیادہ رعایت دی، ریاست اب بھی بہت صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں اور ضروری اخراجات میں نکل جاتا ہے، خریداری اور ڈویلپمنٹ کے لیے دفاعی بجٹ میں رقم ہی نہیں بچتی جب کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی نے ملنا ہے تو سیاستدانوں نے ملیں، نو مئی کرنے اور کرانے والوں کو کیفرکردار تک پہنچانے تک کوئی محفوظ نہیں۔
