امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل سائن ہوگئے لیکن باضابطہ دستخط کی تقریب جنیوا میں ہوگی اور میزبان پاکستان ہوگا۔ دُنیا بھر کی نظریں اِس وقت اسلام آباد اکارڈ پر لگی ہیں۔
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ جمعہ سے پہلے ایران معاہدے کا متن جاری کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ کچھ تکنیکی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں، تبدیلی بھی ہوسکتی ہے۔
امریکی نائب صدر نے بتایا ایران کو فی الحال کوئی رقم جاری نہیں کی گئی ۔ پابندیوں کا خاتمہ یورینیم افزودگی کے خاتمے سے مشروط ہوگا۔ معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کار یقینی طور پر ایران واپس جائیں گے۔
ڈی وینس نے مزید کہا کہ حتمی معاہدے پر مذاکرات کے دوران 60 دن تک آبنائے ہرمز سے آمدورفت ٹول فری ہوگی۔ ایران معاہدے کی پابندی کرتا ہے تو اسے فوائد حاصل ہوں گے۔
