بالی ووڈ کے سینئر اداکار انوپم کھیر نے پنجابی گلوکار دلیر مہندی کی حمایت کرتے ہوئے اتراکھنڈ کے کابینہ وزیر سُبودھ یونیال کے رویے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی فنکار کی پرفارمنس پسند نہ آئے تو اس پر اعتراض کیا جاسکتا ہے، لیکن عوام کے سامنے اس کی تذلیل کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔
انوپم کھیر نے بدھ کو انسٹاگرام پر اپنے پیغام میں بتایا کہ وہ دلیر مہندی کو تقریباً 30 برس سے جانتے ہیں اور ان کے کردار سے واقف ہیں۔ ان کے مطابق، گلوکار شراب نہیں پیتے اور وہ ایک بہترین انسان ہیں۔ اداکار نے یہ بھی بتایا کہ دلیر مہندی گزشتہ دو سے تین سال سے صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ممکن ہے گلوکار نے پہلے سے طے شدہ پیشہ ورانہ وعدے کی پاسداری کے لیے بیماری کے باوجود پروگرام میں شرکت کی ہو۔
انوپم کھیر نے کہا کہ اگر گلوکار نے ریکارڈ شدہ آواز پر پرفارم بھی کیا ہو، تب بھی کسی شخص سے اس انداز میں بات کرنا درست نہیں، خصوصاً جب اسے عوام کے سامنے شرمندہ کیا جائے۔ ان کے مطابق، کسی پر اس طرح الزام لگانا ناانصافی ہے۔ انہوں نے شوبز انڈسٹری کے دیگر افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ دلیر مہندی کی حمایت میں آگے آئیں اور ساری ذمے داری ان کے بھائی میکا سنگھ پر نہ چھوڑیں۔
اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں کھیر نے سوال کیا کہ اگر وزیر کو پرفارمنس پر اعتراض تھا تو وہ یہ بات نجی طور پر بھی کرسکتے تھے۔
میکا سنگھ نے اپنے بڑے بھائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر دلیر مہندی کے شراب پینے کا الزام ثابت ہوجائے تو وہ گلوکاری چھوڑ دیں گے۔ کامیڈین اور میزبان کپل شرما اور گلوکار و ریپر بادشاہ نے بھی دلیر مہدی کی حمایت کی ہے۔ اداکار و کامیڈین ویر داس نے بھی بالواسطہ طور پر گلوکار کے حق میں بات کرتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ کام کرنے والے مہربان فنکاروں میں سے ایک قرار دیا۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب اتراکھنڈ کے علاقے ٹہری گڑھوال میں منعقدہ ماں کنجاپوری میلے کے دوران وزیر سُبودھ یونیال دلیپ مہندی کی پرفارمنس کے دوران اسٹیج پر پہنچ گئے۔ انہوں نے گلوکار پر شراب پی کر پرفارم کرنے کا الزام لگایا اور یہ سوال بھی کیا کہ وہ براہِ راست گا رہے ہیں یا ریکارڈ شدہ آواز پر صرف لب ہلا رہے ہیں۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو متعدد فنکاروں نے گلوکار کے حق میں آواز اٹھائی۔
معروف بھارتی گلوکار دلیر مہندی کی سرِ عام تضحیک پر فلم انڈسٹری سے وابستہ کارکنوں کی تنظیم نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو خط لکھ دیا ہے۔
فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سینی ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) نے اپنے خط میں کہا کہ اگر کسی فنکار کی صحت یا پرفارمنس سے متعلق کوئی تشویش ہو تو اسے سرِعام ڈانٹنے کے بجائے احترام اور پیشہ ورانہ انداز میں مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے۔
تنظیم نے گلوکار کو اسٹیج پر سرِعام روکنے اور ان کی کارکردگی پر سوال اٹھانے کے انداز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فنکار برادری کے ساتھ احترام اور حساسیت سے پیش آنے کی اپیل کی ہے۔
