بیجنگ: چائنا انٹرنیشنل پریس کمیونیکیشن سینٹر، سی آئی پی سی سی، 2026 کے پہلے مرحلے کی اختتامی تقریب بیجنگ میں منعقد ہوئی، جس کے ساتھ 88 ممالک سے تعلق رکھنے والے 96 صحافیوں پر مشتمل پروگرام کامیابی سے مکمل ہوگیا۔ پروگرام کے دوران شرکاء نے پیشہ ورانہ تربیت، مختلف صوبوں کے مطالعاتی دوروں، میڈیا تبادلوں اور چین کی ترقی کے مختلف پہلوؤں کا براہ راست مشاہدہ کیا۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوامی جمہوریہ چین کے معاون وزیر خارجہ ہونگ لی نے پروگرام مکمل کرنے والے صحافیوں کو مبارکباد دی اور دنیا، بالخصوص گلوبل ساؤتھ، کے عوام تک چین کی حقیقی اور متنوع تصویر پہنچانے میں ان کے کردار کو سراہا۔

ہونگ لی نے کہا کہ پروگرام کے دوران صحافیوں نے چین کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، جس سے انہیں ملک کی ترقی، اقتصادی پیش رفت اور ترقیاتی فلسفے کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ شرکاء نے جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ اداروں، دیہات، مقامی کمیونٹیز اور تعلیمی اداروں کا دورہ کیا اور حکام، کارکنوں اور مقامی لوگوں سے براہ راست تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام میں شریک صحافیوں نے اپنے قیام کے دوران چین کے حوالے سے تقریباً 4,000 رپورٹس تیار کیں، جو گلوبل ساؤتھ میں کروڑوں افراد تک پہنچیں۔ ان کے مطابق ان رپورٹس میں چین کی صنعتی ترقی، سائنسی و تکنیکی پیش رفت، حکمرانی کے تجربات اور چینی عوام کی روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔ Transcript of the CIPCC 2026 H1 Closing Ceremony.pdf
ہونگ لی نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا، سی پی سی، کے حوالے سے شرکاء کی صحافتی کوریج کا بھی ذکر کیا، خصوصاً ایسے وقت میں جب چین سی پی سی کے قیام کی 105ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر پاکستان کے روزنامہ اتحاد کی رپورٹنگ کا حوالہ دیا، جس میں سی پی سی کی قیادت میں چین میں آنے والی تاریخی تبدیلیوں اور جدیدیت کی جانب اس کے سفر کو اجاگر کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ چین اعلیٰ معیار کی ترقی اور چینی طرز کی جدیدیت کے سفر کو آگے بڑھاتا رہے گا اور عالمی معیشت میں مزید استحکام کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے امن، انصاف اور کثیرالجہتی نظام کے لیے چین کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ چین اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان باہمی تفہیم اور مشترکہ ترقی کے فروغ میں اپنا کردار جاری رکھیں۔

چائنا پبلک ڈپلومیسی ایسوسی ایشن، سی پی ڈی اے، کے صدر چن شو نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور 88 ممالک کے 96 صحافیوں کو پروگرام کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی۔
چن شو نے کہا کہ شرکاء نے چین کے 19 صوبوں، بلدیاتی علاقوں اور خود مختار خطوں کا دورہ کیا، جہاں انہیں چینی طرز کی جدیدیت، ملک کی تاریخ، ثقافت اور عوامی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو براہ راست دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے اہم بین الاقوامی تقریبات میں شرکت کے ساتھ چینی ماہرین اور مختلف اداروں سے تبادلہ خیال کیا، جس سے انہیں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا، چین کے طرز حکمرانی اور ترقیاتی سفر کو مزید گہرائی سے سمجھنے میں مدد ملی۔
چن شو نے کہا کہ سی آئی پی سی سی اپنے 12ویں سال میں داخل ہوچکا ہے اور جغرافیائی وسعت، شرکاء کی تعداد اور میڈیا اداروں کے تنوع کے اعتبار سے چین کے سب سے بڑے غیر ملکی میڈیا ایکسچینج پروگرام کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔
انہوں نے عالمی ابلاغ میں گلوبل ساؤتھ میڈیا کے بڑھتے کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے صحافی عالمی سطح پر اپنی آواز زیادہ مؤثر انداز میں پہنچانے کی صلاحیت اور ذمہ داری رکھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شرکاء اپنے ممالک واپس جاکر دوستی اور باہمی تفہیم کے فروغ میں کردار ادا کریں گے اور چین کی ترقی کے بارے میں اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

تقریب میں مختلف خطوں کی نمائندگی کرنے والے صحافیوں نے بھی مختصر طور پر اپنے تجربات بیان کیے۔ برازیل کی لوسیانا اولیویرا نے کہا کہ چین میں براہ راست رپورٹنگ نے ملک کے بارے میں ان کی تفہیم کو مزید وسیع کیا، جبکہ مصر کے محمد السنهوری نے براہ راست مکالمے اور صحافتی تبادلوں کو غلط تصورات اور دقیانوسی خیالات کے خاتمے کے لیے اہم قرار دیا۔
سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز کی لورا اسٹیفنز ڈبلن نے چین کی تکنیکی ترقی اور شواہد پر مبنی صحافت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تاجکستان کے دلوور سلطونی نے پروگرام کے دوران مختلف ممالک کے صحافیوں کے درمیان قائم ہونے والی دوستی، باہمی احترام اور تعاون کو نمایاں کیا۔ Transcript of the CIPCC 2026 H1 Closing Ceremony.pdf
سربیا کی الیکساندرا اوتاشیوچ نے چین کی ترقی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو اہم قرار دیا، جبکہ تھائی لینڈ کی مانینات اونپانا نے کہا کہ کسی ملک کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کے لیے اس کے عوام اور اداروں کے ساتھ براہ راست رابطہ ضروری ہے۔
موزمبیق کے اناسیو مویانگا نے کہا کہ سی آئی پی سی سی کے تجربے نے شرکاء کی چین کے بارے میں تفہیم کو مزید مضبوط کیا اور ذمہ دارانہ صحافت کے لیے براہ راست مشاہدے، مکالمے اور حقائق کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ Transcript of the CIPCC 2026 H1 Closing Ceremony.pdf

اختتامی تقریب کا ایک اہم حصہ سی آئی پی سی سی 2026 کے 10 نمایاں شرکاء کی خصوصی پذیرائی تھا، جنہیں پروگرام کے دوران ان کی کارکردگی، فعال شرکت اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔
اعزاز حاصل کرنے والوں میں روزنامہ اتحاد میڈیا گروپ اور پاکستان اکنامک نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ایڈیٹر معیز فاروق بھی شامل تھے۔ دیگر نمایاں شرکاء کے ہمراہ انہیں اسٹیج پر مدعو کیا گیا، جہاں چین کے معاون وزیر خارجہ ہونگ لی اور چائنا پبلک ڈپلومیسی ایسوسی ایشن کے صدر چن شو نے انہیں تعریفی اسناد پیش کیں۔
یہ اعزاز پروگرام کے دوران شرکاء کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں، صحافتی خدمات اور مختلف پروگراموں میں فعال کردار کا اعتراف تھا۔
اختتامی تقریب کے ساتھ کئی ماہ پر محیط صحافتی سرگرمیوں، علمی نشستوں، مطالعاتی دوروں اور ثقافتی تبادلوں کا سلسلہ مکمل ہوگیا۔ تقریب میں مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ صحافت مختلف ممالک اور اقوام کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کرسکتی ہے، جبکہ براہ راست روابط، مکالمہ اور زمینی حقائق کا مشاہدہ موجودہ عالمی حالات میں بہتر باہمی تفہیم کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
