ووہان (شِنہوا) 2003کے موسم گرما میں چین کے وسطی شہر ووہان سے تعلق رکھنے والی زرعی ماہر ژو شیاؤ بو دو سوٹ کیسوں میں ہائبرڈ چاول کے بیج اور ایک ایسی الیکٹرانک ڈکشنری لے کر پاکستان پہنچیں جس میں تلفظ سننے کی سہولت نہیں تھی۔
انہیں نہ انگریزی زیادہ آتی تھی اور نہ ہی مقامی زبان اردو۔ پاکستان روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے بیجوں کی 38 کمپنیوں کو ای میل کی تھی، لیکن صرف لاہور میں طاہر سلیمی کی خاندانی کاروباری کمپنی نے انہیں نظرانداز نہیں کیا۔
3 دن تک مختلف مقامات پر جا کر رابطے کی کوششیں ناکام رہنے کے بعد ژو ایک ایسے شخص سلیمی کی گاڑی میں بیٹھ گئیں جنہیں وہ بمشکل جانتی تھیں۔ اس کے بعد دونوں نے ان کے کھیت تک پہنچنے کے لئے 6 گھنٹے کا سفر کیا۔ ژو نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’’اس وقت ہم ایک دوسرے کی بات سمجھ نہیں سکتے تھے۔‘‘
ہائبرڈ چاول کی وضاحت کرنے سے قاصر ژو نے کاغذ پر اس کی کاشت کا طریقہ نقشوں کی مدد سے سمجھایا، جس میں بیج بونا، پنیری منتقل کرنا، کھاد ڈالنا اور فصل کاٹنا شامل تھا۔ سلیمی کے بھائی نے ان خاکوں کو غور سے دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا جو پہلے کسان تھے اور بعد میں کاروبار سے وابستہ ہوگئے۔ تاہم اس وقت تک بیج بونے کا موسم تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
ژو نے بتایا کہ ’’میں انہیں مسلسل کہتی رہی کہ آپ کو یہ بیج ضرور بونے چاہئیں۔ اگر آپ انہیں بو دیں گے تو اب بھی امید باقی ہے۔‘‘ژو اب ووہان چھنگ فا حہ شینگ ایگریکلچرل ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کی جنرل منیجر ہیں۔ ان کی ہمت سے متاثر ہو کر سلیمی نے ہائبرڈ چاول کی کاشت آزمانے کا فیصلہ کیا۔
ژو چین واپسی کے بعد بھی سلیمی کو باقاعدگی سے ای میل کرتی رہیں۔ وہ انہیں کھاد اور کیڑے مار ادویات ڈالنے کے مناسب وقت اور چاول کی فصل کی دیکھ بھال کے طریقوں سے آگاہ کرتی تھیں۔
ان کی یہ کوشش کامیاب رہی۔ ہائبرڈ چاول کی پیداوار مقامی چاول کی کئی اقسام کے مقابلے میں 40 سے 50 فیصد زیادہ رہی۔ پاکستان کے چاول تحقیقی مرکز کے ماہرین نے اس کی بالیوں کو ’’ایک بہت بڑا حیران کن نتیجہ‘‘ قرار دیا۔
بعد ازاں اس شراکت داری کے نتیجے میں پاکستان میں پہلی مرتبہ ہائبرڈ چاول کی ایک قسم کیو وائی 0413 کو تجارتی بنیادوں پر متعارف کرایا گیا جس سے چین کی متعدد بیج کمپنیاں بھی اس شعبے کی جانب متوجہ ہوئیں۔
ژو کے مطابق اب پاکستان میں ہائبرڈ چاول کے بیجوں کی مارکیٹ میں چینی بیجوں کا حصہ 90 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے جبکہ پاکستان دنیا میں چاول برآمد کرنے والا چوتھا بڑا ملک بن گیا ہے۔ اس تعاون سے لاکھوں کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
2010 سے اس کمپنی نے اپنے عملے کو پاکستان بھیجنا شروع کیا، جہاں کسانوں کو بیج بھگونے سے لے کر فصل کو کیڑوں سے محفوظ رکھنے تک کے مختلف طریقوں کی تربیت دی جاتی ہے۔2010 سے اس کمپنی نے اپنے عملے کو پاکستان بھیجنا شروع کیا، جہاں کسانوں کو بیج بھگونے سے لے کر فصل کو کیڑوں سے محفوظ رکھنے تک کے مختلف طریقوں کی تربیت دی جاتی ہے۔
صرف بیج فروخت کرنا کافی نہیں ہے۔ سو نے کہا کہ ’’ہمیں فروخت کے بعد بھی خدمات فراہم کرنی چاہئیں، کسانوں کے کھیتوں میں جا کر ان کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔‘‘
2007 میں ژو کی ٹیم نے پاکستان کے درآمدی خوردنی تیل پر انحصار کم کرنے کے مقصد سے سرسوں اور کینولا جیسی تیل دار فصل ریپ سیڈ پر توجہ دینا شروع کی۔ پاکستان اپنا زیادہ تر خوردنی تیل درآمد کرتا ہے جس میں بڑی مقدار جنوب مشرقی ایشیا سے آنے والے پام آئل کی ہوتی ہے۔
چاول کی نئی اقسام تیار کرنے کے مقابلے میں پاکستان کے لئے موزوں ریپ سیڈ کی اقسام تیار کرنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ پاکستان کی آب و ہوا نسبتاً گرم ہے، جس کے باعث فصلیں بہت تیزی سے پک جاتی ہیں۔ژو نے بتایا کہ ’’پودے بظاہر بہت اچھے نظر آتے ہیں، لیکن فصل کی کٹائی کے بعد بیجوں کی پھلیاں خالی نکلتی ہیں۔‘‘
ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک بار بار ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بعد کمپنی نے بالآخر 2019 میں ریپ سیڈ کی ایک نئی قسم رجسٹر کرانے میں کامیابی حاصل کی۔
ژو کے نزدیک زرعی تعاون کا مطلب صرف چین میں رائج کاشت کاری کے طریقوں کو دوسرے ممالک میں اپنانا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ٹیکنالوجی، خدمات اور انتظامی طریقوں، سب کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔‘‘
چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر نوجوان نسل بھی دونوں ممالک کے زرعی تعاون کو آگے بڑھانے میں نیا جوش اور توانائی پیدا کر رہی ہے۔
23 سالہ ژانگ آؤ نے مالیکیولرحیاتیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ چھنگ فاحہ شینگ کمپنی میں ملازمت شروع کرنے کے فوراً بعد انہوں نے 2 ماہ سے زیادہ عرصے تک پاکستان کے شہروں لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان کے کھیتوں کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے مقامی مٹی اور موسمی حالات میں چینی فصلوں کی مختلف اقسام کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
اس تجربے نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ بین الاقوامی زرعی تعاون کا حقیقی مطلب کیا ہے۔ ژانگ نے کہا کہ ’’وہاں کے لوگ چینیوں کے ساتھ بہت دوستانہ رویہ رکھتے ہیں۔ آپ صرف اپنی نمائندگی نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اپنے ملک کی بھی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘
پاکستان میں قیام کے دوران ژانگ کی ملاقات اپنی عمر کے مقامی نوجوانوں سے ہوئی، جو مصنوعی ذہانت، چینی الیکٹرک گاڑیوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے بارے میں بات کرنے کے لئے پرجوش تھے۔ ژانگ نے بتایا کہ ’’وہ مجھ سے ڈیپ سیک اور بی وائی ڈی کے بارے میں بات کرتے تھے۔ وہ ’میڈ ان چائنہ‘ کو معیاری اور مناسب قیمت کی مصنوعات کی پہچان سمجھتے ہیں۔‘‘
ژو کے نزدیک اس طرح کے تبادلے ہی زرعی تعاون کو حقیقی معنوں میں بامعنی بناتے ہیں۔دیوار پر درج کمپنی کے نعرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ژو نے کہا کہ ’’ایک بیج دنیا بدل سکتا ہے۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً.
Related Posts
اہم روابط
