چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے تائیوان کے رہنما لائی چھنگ ڈے کے 2 مئی کو اسواتینی (سوازی لینڈ) کے بادشاہ کے نجی طیارے کے ذریعے دورے پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لائی چھنگ ڈے نے ایلان میں زلزلہ آنے کے چند ہی گھنٹوں بعد، جزیرے کے عوامی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے خفیہ طور پر ایک غیر ملکی طیارے میں سوار ہو کر تائیوان سے روانگی اختیار کی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا ۔ اس طرح کا بیرونی دورہ بین الاقوامی سطح پر تمسخر کا باعث بنا اور "تائیوان کی علیحدگی ” کی شرمناک کارروائیوں کی فہرست کو مزید طول دے گیا۔
ترجمان نے کہا کہ لائی چھنگ ڈے اور اس جیسے عناصر کو بین الاقوامی سطح پر پیش آنے والی سبکی ایک بار پھر یہ ظاہر کرتی ہے کہ “ایک چین” کا اصول پہلے ہی بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی اصول اور عالمی برادری کا وسیع تر اتفاقِ رائے بن چکا ہے۔ ڈی پی پی حکام بیرونی قوتوں سے چاہے کتنی ہی گٹھ جوڑ کرے یا کسی بھی شکل میں دوسروں پر انحصار کرے، یہ سب بے سود ہے اور اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔ اس سے قطع نظر کہ "تائیوان کی علیحدگی ” کی قوتیں کس طرح اپنی شکل بدلیں، وہ اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ انہیں ہر طرف سے مخالفت کا سامنا ہوگا اور بالآخر پسپا ہونا پڑے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ہم اسواتینی اور چند دیگر ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ تاریخ کے عمومی رجحان کو تسلیم کریں اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق چلیں اور "تائیوان کی علیحدگی ” کے حامی چند عناصر کے لیے خطرہ مول نہ لیں۔
