امریکہ اور ایران نے کئی دہائیوں پر محیط کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےفرانس کےوارسائی محل میں صدرمیکرون کی موجودگی میں دستخط کیے، کہایہ اتنا آسان نہیں تھا،ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی تہران میں دستاویزات پر دستخط کیے، وڈیوز اور تصاویر سامنے آگئی ہیں۔

امریکی حکام کاکہنا ہےامریکا نے ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کےنکات جاری کردیےہیں اور اس مفاہمتی یادداشت کا ٹائٹل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت رکھا گیا ہے۔
امریکا کا جنگ ختم کرنے کا معاہدہ اسرائیل کو فراہم کرنے سے انکار
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الحال جمعے کو مذاکرات کی تصدیق نہیں کرسکتے،جمعہ کو ملاقات کافیصلہ چندگھنٹوں میں متوقع ہےاورجنیوا میں وفود کی شرکت بدستور شیڈول کےمطابق ہے۔
ایرانی وزیرخارجہ نےکہایادداشت کےفارسی اورانگریزی زبانوں کے متن پردستخط کیے گئے،تشریحی تنازعات سے بچنےکیلئے دونوں زبانوں میں دستخط کیے گئے۔
اس یادداشت کے تحت دونوں ممالک آئندہ 60 روز کے دوران ثالث ممالک کی موجودگی میں مذاکرات کریں گےتاکہ ایک جامع اور حتمی معاہدے کوحتمی شکل دی جا سکے۔
مذاکرات میں ایران کےجوہری پروگرام،اقتصادی پابندیوں،تیل کی برآمدات اورعلاقائی سلامتی کے امور سرفہرست ہوں گے،عالمی مبصرین اس پیشرفت کومشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیےایک اہم سنگِ میل قرار دےرہے ہیں، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیےابھی کئی پیچیدہ معاملات طے ہونا باقی ہیں۔
