چھونگ چھنگ (شِنہوا) چین کی جنوب مغربی چھونگ چھنگ بلدیہ کی ایک روشن لیبارٹری میں کمپیوٹر سکرینیں پیچیدہ کوڈ اور طبی امیجنگ ڈیٹا سے جگمگا رہی ہیں۔ پاکستانی طالب علم محمد یونس خان پوری توجہ کے ساتھ ماڈل کے پیرامیٹرز کو بہتر بنا رہے ہیں جبکہ سی ٹی سکینز خودکار طور پر الگورتھمز کے ذریعے تجزیہ اور درجہ بندی کئے جا رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی پیش رفت کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی تبادلے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے یونس خان خود کو اس بڑھتے ہوئے تعاون کا عینی شاہد سمجھتے ہیں۔
کمپیوٹر سائنس کے طالب علم کے طور پر یونس خان مشین لرننگ بالخصوص بیماری سے متاثرہ حصوں کی شناخت اور درجہ بندی پر مبنی طبی امیج تجزیے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی تحقیق ایسے ماڈلز تیار کرتی ہے جو معمولی نقصانات کو بھی پہچان سکیں، یوں انسانی نظر کی حدود کو عبور کرتے ہوئے طبی تشخیص میں زیادہ درست معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔
یونس خان نے کہا کہ ’’مصنوعی ذہانت طبی تشخیص کی کارکردگی اور یکسانیت کو نمایاں طور پر بہتر بنا رہی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بہتر صحت کی سہولیات میں اپنا کردار ادا کر سکوں۔‘‘
یونس خان نے 2023 میں چھونگ چھنگ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تاکہ مصنوعی ذہانت اور صحت کے امتزاج پر مبنی اس جدید شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر سکیں۔ ان کے تحقیقی مقالے پہلے ہی توجہ حاصل کر چکے ہیں اور وہ نظریہ سے عملی اطلاق تک ہر قدم کو اپنے مقصد کی جانب پیش رفت سمجھتے ہیں۔
درحقیقت چین میں تعلیم حاصل کرنے کا ان کا فیصلہ خاندانی اثر اور چین-پاکستان دیرینہ تعلقات سے متاثر تھا۔ ان کے بھائی پہلے ہی چین سے پی ایچ ڈی کر چکے ہیں جبکہ چینی ماہرین کے ساتھ ان کے تجربات نے انہیں ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور خوش اخلاقی سے متاثر کیا۔ چھونگ چھنگ میں اپنے 3 سالہ قیام کے دوران یونس خان ثقافتی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان اور چین دوست ہیں، یہ سرگرمیاں بہت دلچسپ ہیں۔‘‘
ماہرین کے مطابق ایسے انفرادی واقعات ایک بڑے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
چھونگ چھنگ میونسپل کمیٹی برائے چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے رکن ژو ینگ کے مطابق چین اور پاکستان سمیت گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان تعاون مزید عملی اور باہمی فائدہ مند بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور طویل مدتی تعاون میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
عملی پروگرام اس تعاون کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت چین اور پاکستان کے درمیان 11 تربیتی معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں، جن میں ای کامرس، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی، ڈرون ایپلی کیشنز، سمارٹ مینوفیکچرنگ اور صحت کے شعبے شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو ملکی ضروریات اور عالمی منڈی کے مطابق مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
تعلیمی تعاون بھی بڑھ رہا ہے۔ 2025 میں چینی حکام نے اندرونی منگولیا ہوندر کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز اور یونیورسٹی آف دی پنجاب کے درمیان کمپیوٹر سائنس میں مشترکہ انڈر گریجویٹ پروگرام کی منظوری دی جس کے تحت طلبہ کو دوہری ڈگری اور کیریئر کے امکانات میسر آئیں گے۔ اسی سال یونیورسٹی آف سرگودھا اور نانکائی یونیورسٹی کے درمیان ڈیجیٹل تعلیم میں تعاون بڑھانے کا معاہدہ بھی طے پایا۔
چھونگ چھنگ یونیورسٹی کے سنٹر آف انٹرنیشنل سٹوڈنٹس موبیلٹی سروس کی نائب ڈائریکٹر چھن ینگ کے مطابق اس وقت یونیورسٹی میں 118 پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں زیادہ تر انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور بزنس کے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ طلبہ پاکستان کی ترقی اور سی پیک منصوبوں میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے سفیر بھی بنیں گے۔
یونس خان اس سال جولائی میں گریجویشن مکمل کریں گے اور انہیں پہلے ہی شین زین کی ایک ہائی ٹیک کمپنی میں تحقیق و ترقی کی ملازمت مل چکی ہے۔ وہ اپنی مہارت کو مزید نکھارنے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت پر مبنی طبی شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
یونس خان نے کہا کہ ’’مصنوعی ذہانت طب کے مستقبل کو بدل رہی ہے اور بین الاقوامی تعاون کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سیکھا ہے، اسے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔‘‘
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً.
Related Posts
اہم روابط
