بیجنگ (اتحاد): چین نے ایک بار پھر عالمی طرز حکمرانی (گلوبل گورننس) میں اصلاحات کے موضوع کو بین الاقوامی مباحثے کا مرکزی نکتہ بنا دیا ہے۔ 17 جون کو جاری کیے گئے اپنے تازہ وائٹ پیپر کے ذریعے چین نے ایک ایسے عالمی نظام کا تصور پیش کیا ہے جو زیادہ منصفانہ، جامع اور نمائندہ ہو، اور جو گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط جغرافیائی سیاسی حقائق کے بجائے اکیسویں صدی کی موجودہ حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہو۔
مجھے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی جانب سے منعقدہ بین الاقوامی پریس کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا، جہاں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے صحافی اس نئے وائٹ پیپر کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کے لیے موجود تھے۔ اس موقع پر مجھے آخری سوال پوچھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ میرا سوال اس حوالے سے تھا کہ چین گلوبل گورننس انیشی ایٹو (GGI) کے وژن کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں کس طرح تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
میرے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ وانگ یی نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی طرز حکمرانی میں اصلاحات کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لیے تمام ممالک کی مشترکہ کاوشیں درکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین عالمی طرز حکمرانی کی بہتری اور اصلاح کے لیے پہلے ہی نو ترجیحی شعبے تجویز کر چکا ہے۔ ان کے مطابق بڑی طاقتوں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی، بین الاقوامی اداروں کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا اور عالمی برادری کو مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
یہ وائٹ پیپر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا غیر معمولی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی معیشت کی تقسیم، موسمیاتی تبدیلی، غذائی عدم تحفظ، ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑھتی ہوئی مسابقت اور علاقائی تنازعات نے موجودہ عالمی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک یہ محسوس کرتے ہیں کہ عالمی پالیسی سازی اور اقتصادی ڈھانچوں کو تشکیل دینے والے اداروں میں ان کی آواز کو مناسب نمائندگی حاصل نہیں۔
پاکستانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ گلوبل ساؤتھ کے ممالک طویل عرصے سے ایک ایسے عالمی نظام کے حامی رہے ہیں جہاں فیصلہ سازی چند طاقتور ممالک تک محدود نہ ہو بلکہ تمام ممالک کو مساوی مواقع اور نمائندگی حاصل ہو۔ جی جی آئی میں شامل اصول، خصوصاً شمولیت، باہمی مشاورت، مشترکہ ترقی اور قومی خودمختاری کے احترام جیسے تصورات، ترقی پذیر ممالک کی امنگوں سے مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں۔
چین کے اس وژن کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں نظریاتی محاذ آرائی کے بجائے عملی تعاون پر زور دیا گیا ہے۔ یہ اقدام تصادم کے بجائے مکالمے، تقسیم کے بجائے ترقی، اور زیرو سم مقابلے کے بجائے شراکت داری کو فروغ دیتا ہے۔ ایسے اصول ان ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہیں جو جغرافیائی سیاسی کشمکش کا حصہ بنے بغیر معاشی ترقی اور استحکام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
وائٹ پیپر میں کثیرالجہتی نظام (ملٹی لیٹرلزم) کے فروغ اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کو بھی نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔ ایسے وقت میں جب یکطرفہ اقدامات اور تحفظ پسند پالیسیاں عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہی ہیں، بین الاقوامی تعاون کی دوبارہ توثیق ایک اہم پیغام ہے۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک کے لیے مضبوط بین الاقوامی ادارے عالمی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
ایک ایسے صحافی کے طور پر جس نے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ چین کے روابط اور تعاون کو قریب سے دیکھا ہے، میری رائے میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو محض ایک سفارتی تجویز نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک وسیع تر تبدیلی کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کو بین الاقوامی اصولوں اور اداروں کی تشکیل میں زیادہ مؤثر کردار فراہم کرنا ہے۔ چاہے بات بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی ہو، علاقائی روابط کی ہو، تکنیکی تعاون کی ہو یا غربت کے خاتمے کی، چین مسلسل یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ترقی دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے۔
پاکستان، جو چین کا ایک دیرینہ تزویراتی شراکت دار ہے، کے لیے اس وائٹ پیپر میں پیش کیے گئے خیالات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے کثیرالجہتی تعاون، علاقائی روابط اور جامع اقتصادی ترقی کا حامی رہا ہے۔ سی پیک جیسے منصوبے پہلے ہی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ بین الاقوامی تعاون سے شریک ممالک کو عملی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح جی جی آئی کے وسیع تر اصول بھی ایک زیادہ متوازن اور نمائندہ عالمی نظام کے قیام میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا یہ وائٹ پیپر محض ایک اور پالیسی دستاویز نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے ایک دعوت ہے کہ وہ عالمی طرز حکمرانی کے مستقبل پر سنجیدہ مکالمے کا آغاز کریں اور یہ سوچیں کہ بین الاقوامی ادارے تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں انسانیت کی بہتر خدمت کس طرح کر سکتے ہیں۔
یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ عالمی برادری اس وژن کو کس حد تک قبول کرتی ہے، تاہم ایک بات واضح ہے کہ عالمی طرز حکمرانی میں اصلاحات پر بحث اب مستقبل کا موضوع نہیں رہی۔ یہ عمل آج جاری ہے اور چین اس مکالمے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتا ہے۔
تحریر:معیز فاروق
ایگزیکٹو ایڈیٹر، پاکستان اکنامک نیٹ ورک (PEN)
ڈیلی اتحاد میڈیا گروپ
