حال ہی میں صوبہ انہوئی میں واقع انہوئی جِنگ جیو سلک کمپنی لمیٹڈ کے H&S’ YATI سلک میوزیم اور سلک پروڈکشن ورکشاپ کے دورے کا موقع ملا، جس نے چین کی قدیم ترین اور قیمتی صنعتوں میں سے ایک، یعنی ریشم کی صنعت، کے حوالے سے نہایت دلچسپ اور متاثر کن معلومات فراہم کیں۔ اس دورے نے نہ صرف چینی تہذیب میں ریشم کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ یہ بھی دکھایا کہ جدید چین کس طرح اس صدیوں پرانے ہنر کو جدت، ٹیکنالوجی اور صنعتی مہارت کے ذریعے محفوظ اور ترقی دے رہا ہے۔
1996 میں صوبہ انہوئی کے شہر فویانگ میں قائم ہونے والا انہوئی جِنگ جیو سلک گروپ آج چین کی نمایاں ریشم ساز کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے۔ کمپنی کی سرگرمیوں میں شہتوت کی کاشت، ریشم کے کیڑوں کی افزائش، سلک ویونگ، ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ اور اعلیٰ معیار کی ریشمی مصنوعات کی تیاری شامل ہے۔ ایک ہزار سے زائد ملازمین پر مشتمل یہ ادارہ چین کی صفِ اول کی سلک انٹرپرائزز میں شامل کیا جاتا ہے۔
دورے کے دوران سلک میوزیم نے چین میں ریشم سازی کی ارتقائی تاریخ کو انتہائی خوبصورتی سے پیش کیا۔ مختلف نمائشوں کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ ریشم کا چینی تہذیب سے کتنا گہرا تعلق رہا ہے۔ قدیم شاہراہِ ریشم میں بھی ریشم نے مرکزی کردار ادا کیا، جس نے چین کو وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ سے جوڑا۔ میوزیم اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ریشم نہ صرف عیش و عشرت اور نفاست کی علامت تھا بلکہ تہذیبوں کے درمیان ثقافتی تبادلوں اور اقتصادی روابط کا بھی ایک اہم ذریعہ بنا۔
اس دورے کا سب سے متاثر کن پہلو ریشم کی تیاری کے مکمل عمل کو قریب سے دیکھنا تھا۔ ریشم کے کیڑوں کی افزائش، کوکون کی پراسیسنگ، سلک ریلنگ، ویونگ، رنگائی اور کپڑے کی تیاری کے ہر مرحلے میں غیر معمولی مہارت اور باریک بینی نمایاں تھی۔ پروڈکشن ورکشاپ میں روایتی مہارت کو جدید صنعتی مشینری کے ساتھ یکجا کیا گیا تھا، جو اس بات کی بہترین مثال ہے کہ چین اپنی روایتی صنعتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ان کی ثقافتی شناخت کو بھی محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
ورکشاپ میں جدید خودکار سلک ریلنگ سسٹمز اور اٹالین ویونگ مشینری نصب ہے، جو سالانہ لاکھوں میٹر ریشمی کپڑا تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کمپنی خام ریشم، ریشمی کپڑے، ہوم ٹیکسٹائل، اسکارف، ملبوسات اور لگژری سلک کوئلٹس سمیت مختلف اقسام کی مصنوعات تیار کرتی ہے۔
اس دورے کا ایک اور نمایاں پہلو چین کی زرعی اور صنعتی انضمام کے حوالے سے طویل المدتی حکمتِ عملی تھی۔ کمپنی مقامی کسانوں اور ریشم کے کیڑوں کی افزائش سے وابستہ افراد کے ساتھ قریبی تعاون کرتی ہے، جس کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور علاقائی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچتا ہے۔ یہ ماڈل اس بات کی بہترین مثال ہے کہ چین نے دیہی ترقی کو صنعتی ترقی اور برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ کے ساتھ کامیابی سے جوڑا ہے۔
یہ دورہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ چین اپنی ثقافتی وراثت کے تحفظ کو کتنی اہمیت دیتا ہے، جبکہ ساتھ ہی جدت اور جدیدیت کو بھی بھرپور انداز میں اپناتا ہے۔ ریشم، جو کبھی قدیم چینی تجارتی راستوں کی شان سمجھا جاتا تھا، آج بھی چین کی سافٹ پاور، مہارت اور اقتصادی ترقی کی علامت ہے۔ میوزیم، سیاحت، ثقافتی کہانیوں اور صنعتی پیداوار کا امتزاج اس بات کی کامیاب مثال ہے کہ روایتی صنعتوں کو جدید دور میں کس طرح نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔
پاکستان سے آنے والے ایک صحافی کے طور پر یہ دیکھنا خاص طور پر دلچسپ تھا کہ چین نے ریشم جیسی روایتی صنعت کو زراعت، ٹیکنالوجی، سیاحت، ثقافت اور برآمدات پر مشتمل ایک جامع اقتصادی نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایسے ماڈلز ترقی پذیر ممالک کے لیے نہایت مفید مثال پیش کرتے ہیں، جو اپنی روایتی صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو بھی بااختیار بنانا چاہتے ہیں۔
H&S’ YATI سلک میوزیم اور انہوئی جِنگ جیو سلک پروڈکشن ورکشاپ کا یہ دورہ نہ صرف معلوماتی تھا بلکہ بے حد متاثر کن بھی ثابت ہوا۔ اس نے چین کے اس غیر معمولی سفر کو نمایاں کیا جس میں وہ اپنی عظیم ثقافتی وراثت کو محفوظ رکھتے ہوئے اعتماد کے ساتھ جدیدیت اور صنعتی ترقی کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ از
معیز فاروق
ایگزیکٹو ایڈیٹر، ڈیلی اتحاد میڈیا گروپ اور پاکستان اکنامک نیٹ ورک
